Friday, January 8, 2010

مسلکی منافرت زہرِ ہلاہل ہے(مراسلہ)

)ایک بار پھر اس خیرِ اُمّت کو مسلکی اختلافات کے گہرے غار اور دلدل مےں پھنسانے کی کوشش جاری ہے۔صےہونی طاقتوں اور شرپسند عناصر اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ گئے ہےں کہ ملتِ اسلامےہ مےںتفریق پیدا کرنے کے لےے مسلکی اختلاف سے بہتر کوئی فارمولہ نہےں ہے۔حال ہی مےں مراد آباد کے اےک اسٹےج سے ےہ صدا بلند ہوئی کہ ہمےں وہابیوں کی امامت کی کوئی ضرورت نہےں ہے۔کوئی ان سے دریافت کرے کہ ہندوستان مےں کون وہابی انھےں اپنی اقتدا کرنے کے لےے کہہ رہا ہے؟یا عبد الوہاب نجدی کی تحرےک کا ہمارے ملک سے کےا تعلق ہے۔در اصل مدرسہ بورڈ اور دیگر کئی چیزوں کے حوالہ سے ےہ امت اےک پلےٹ فارم پر آنے لگی تھی،جو فتنہ جو لوگوں کو اچھا نہےں لگا۔وہ خود تو میدان مےں آئے نہےں کہ بھید کھلنے کا ڈر تھا۔البتہ ہم مےں سے ہی کچھ لوگوں کو آگے کردیا۔اسی طرح ضلع مظفرنگر کے اےک گاو¿ں کے جھگڑے کو شیعہ سنی تنازعہ بنانے کی بھر پور کوشش کی گئی۔وہ تو اچھا ہوا کہ گاو¿ں کے بزرگوں نے معاملہ کو از خود حل کرلےا۔ بہی خواہانِ ملت سے درد مندانہ گزارش ہے کہ ےہ ملت مسلکی اختلافات کو لے کر پہلے بھی بارہا بحران کا شکار ہوچکی ہے۔کےا وہ وقت نہےں آیا کہ ہم تعلےم،اقتصادیات اور تحفظ اور حقوق کی بازیابی کے لےے کوئی مشترکہ لائحہ عمل تیار کرلےں اور میدانِ کار زار مےں اتر جائےں۔کےا ےہ بھی ممکن نہےں کہ ہم ہر اس آدمی کو مسترد کردیں جو مسلمانوں مےں مسلکی منافرت پھےلاتا ہو۔

No comments:

Post a Comment