Sunday, January 10, 2010

insani hqooq

کےرانہ10جنوری،اےم سالم،مذہب کا سیاست سے کےا تعلق؟یا مذہب اور سیاست دو جداگانہ سمتیں ہےں۔یہ نظریہ مغربی سوچ سے مرعوبیت ہے یا اسلامی تعلیمات سے عدم واقفیت یا پھر سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے بھی مغربی مفادات کے تحفظ کا طے شدہ ایجنڈا ، کیا ایک صاحبِ ایمان ایسی بات کہہ سکتا ہے؟ اور کیا واقعی ریاست اور مذہب دو الگ الگ چیزیں ہیں؟ صورتحال متقاضی ہے کہ ان دو سوالوں کا جواب تلاش کیا جائے۔ کسی ریاست کی رہنمائی کیلئے کیا ذرائع ہو سکتے ہیں؟اور کےا مذہب سیاسی رہنمائی کے لےے آڑ ہے۔اس سوال کا جواب ہی ریاست اور مذہب کے خلطِ مبحث کے جواب کا واحد حل ہے۔ان خیالات کا اظہار انگریزی جریدہ،، مےڈےا اسکےن،، (کرناٹک)کے مےنےجر مولانا نوشاد زبیر ملک نے خصوصی ملاقات مےںکےا۔ مصوف یوپی کے اس علاقہ مےں جریدہ کی اشاعت کی غرض سے آئے ہوئے ہےں۔انھوں نے کہا کہ کسی ریاست کی رہنمائی کیلئے ایک ذریعہ انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین ہیں جو انسانی عقل، مشاہدات اور تجربات کے بعد حاصل ہوئے ہےںجبکہ دوسرا ذریعہ خدائی قوانین ہیں۔ اول الذکر مےں حسبِ منشا حذف وترمےم کی گنجائش رہتی ہے جبکہ ثانی الذکر نا قابل تبدیل و تنسیخ ہیں یعنی اول الذکر کے مقابلے میں یہ دائمی قوانین ہیں۔انھوں نے کہا کہ مےں اصولی بات کہہ رہا ہوں ۔کوئی اےک ملک یا خطّہ نشانہ نہےں ہے۔رہا ہمارا ملک تو ےہاں سےکولر ازم ہے۔ےعنی کسی اےک مذہب کی حکومت نہےں ہے۔بلکہ ےہاں آباد جملہ طبقات کی مشترکہ حکومت ہے۔اسی صورت حال مےں مولانا حسین احمد مدنی،مولانا حفظ الرحمان سےوہاری اور مولانا ابوالکلام آزاد جےسے اکابر دہائےوں کام کرچکے ہےں۔ہم سیاست سے دوری بنائے رکھےں گے تو شرکت اور وہ بھی آبادی کے تناسب سے اقتدار مےں حصّہ کےونکر نصیب ہوگا۔اکابر،، اہون البلیتین ،،کہہ کر اس مےدان مےں آئے تھے۔تلخ نوائی معاف!نصف صدی ہم کو ےہی کھلونا دے کر بہکایا گیا کہ سیاست سے دور رہو۔ہم نے مانا کہ سیاست کثافت آلود ہوگئی ہے،مگر اس کی تطہےر بھی تو ہمارا بنیادی فریضہ ہے۔مولانا نے مزےد کہا کہ یہاں سوچنے کے دو انداز ہو سکتے ہیں ایک یہ کہ اسلام انفرادی زندگی کیلئے تو راہ ہدایت ہے مگر اجتماعی زندگی کیلئے نہیں اور دوسرا یہ کہ اسلام نہ صرف انفرادی زندگی بلکہ اجتماعی زندگی کیلئے بھی ہدایت عطا کرتا ہے۔انقرہ کی وحی سے ہم آہنگی رکھنے والے احباب سے گزارش ہے کہ ان کے نزدیک اسلام زندگی کے ہر میدان میں ہدایت کا سرچشمہ ہے تو پھر اس معاملہ مےں حقیقت سے فرار کیوں؟ انھوں نے کہا کہ اس کھلی حقیقت کے باوجود نظری اور فکری افلاس میں مبتلا دانشوروں کے نزدیک ریاستی اور انفرادی سطح پر مغرب کے بنائے ہوئے معیار ہی قابل تقلید ہیں۔ کےا وہ نہےں جانتے کہ مغرب جن انسانی حقوق کو معیار بنا بیٹھا تھا، وہ مغربی تہذیب میں ذہنی اضطراب اور بے چینی کی وجہ بن رہے ہیں۔ مغرب نے شخصی بنیادوں پر انسانی حقوق کی عمارت تخلیق کی ہے جبکہ اس کے مقابلے میں اسلام ذمہ داری کی بنیاد پر انسانی حقوق کا تعین کرتا ہے ۔مغرب میں مذہب کے نام پر کلیسا کے ظلم و ستم کے بعد مارٹن لوتھر کنگ کی قیادت میں 1519 میں پروٹسٹنٹ فرقے کا ظہور ہوا تو مذہب کو سیاست سے الگ رکھنے کی وجہ بڑی واضح تھی۔ عصر حاضر کی مغربی سوچ کی بنیاد مذہب کا استحصال تھا لیکن کیا اسلام اس طرح کے استحصال کا سبب بن سکتا ہے؟ کیا اسلامی تعلیمات پر قائم کیا گیا معاشرہ ایک مثالی فلاحی معاشرہ نہیںہو گا؟ کون ہے جو اس حقیقت سے انکار کر سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم خلط مبحث اور نامعقول نظریات سے گریز کرکے حقائق سے وابستہ ہوجائےں۔بصورت دیگر علم وآگہی کی اس صدی مےں ہمارا کوئی پرسانِ حال نہےں ہوگا۔ ایم سالم کےرانہ

No comments:

Post a Comment